اگلی: اب وقت ہو گیا -- -- --
مقام کا تعین کیا جا رہا ہے...
آپ کا مقام متعین ہوا: --
اوقات دیکھیں

زکوٰۃ کیلکولیٹر

اپنی نقدی، بچت، سونے اور حصص پر زکوٰۃ آسانی سے حساب کریں — واضح نصاب اور 2.5% کی شرح کے ساتھ۔

  • شرح: 2.5%
  • نصاب: 85 گرام سونا یا 595 گرام چاندی
  • حول: ایک قمری سال
حساب کی ترتیبات

مقامی مارکیٹ کے مطابق فی گرام قیمت ایڈجسٹ کریں۔

کیا دولت پر مکمل قمری سال (حول) گزر چکا ہے؟

آپ تخمینی مقدار جاننے کے لیے کیلکولیٹر استعمال کر سکتے ہیں، پھر دولت کے ملکیت کی تاریخ کا جائزہ لیں یا کسی معتمد عالم سے رجوع کریں۔

نقدی اور بچت

زکوٰۃ کے وقت آپ کے پاس فعلی طور پر موجود رقم درج کریں۔

سونا اور چاندی
سونا
چاندی

ذاتی زیورات کے سونے میں فقہی اختلافات ہیں؛ آپ کی پیروی کردہ فتویٰ کے مطابق حساب مختلف ہو سکتا ہے۔

سرمایہ کاری اور تجارتی سامان

رہائش یا ذاتی استعمال کی جائیداد عام طور پر شامل نہیں ہوتی؛ فروخت کے لیے رکھی گئی جائیداد بازار کی قیمت پر شامل ہوتی ہے۔

قرضے اور کٹوتیاں

قرضوں کی کٹوتی کے قواعد قرض کی قسم اور وقت پر منحصر ہیں؛ یہ کیلکولیٹر صرف عمومی تخمینہ پیش کرتا ہے۔

Note: this calculator is for estimation only and is not a religious ruling (fatwa). For special cases, consult a trusted scholar.

حساب کی تفصیل

نقدی کا مجموعہ0
سونے اور چاندی کا مجموعہ0
سرمایہ کاری اور تجارت کا مجموعہ0
کٹوتی شدہ قرض0
خالص زکوٰۃ والی دولت0
نصاب0
واجب الادا زکوٰۃ0

Learn about zakat on money

Zakat on money is generally calculated at 2.5% of the net zakatable wealth once it meets the nisab and a full lunar year (Hawl) has passed.

مال کی زکوٰۃ کیسے حساب کی جائے؟

زکوٰۃ عام طور پر اس وقت 2.5% کی شرح سے حساب کی جاتی ہے جب دولت نصاب کو پہنچ جائے اور اس پر مکمل قمری سال (حول) گزر جائے۔ فارمولا: زکوٰۃ = خالص دولت × 2.5%۔

زکوٰۃ کا نصاب کیا ہے؟

نصاب وہ کم از کم مقدار ہے جس پر حول گزرنے کے بعد زکوٰۃ واجب ہو جاتی ہے۔ یہ عام طور پر 85 گرام سونے یا 595 گرام چاندی کے برابر ہوتا ہے۔

زکوٰۃ کے حساب میں کون سی دولت شامل ہے؟

  • نقد، بینک اکاؤنٹس اور بچت
  • سونا اور چاندی
  • تجارتی سامان
  • حصص اور سرمایہ کاری
  • فروخت کے لیے رکھی گئی جائیداد

کون سی دولت عام طور پر خارج ہوتی ہے؟

  • ذاتی رہائش
  • ذاتی گاڑی
  • فرنیچر اور ذاتی اشیاء
  • وہ جائیداد جو فروخت کے لیے نہیں
  • کام کے لیے استعمال ہونے والے اوزار، فروخت کے لیے نہیں

زکوٰۃ کیلکولیٹر اور مال کی زکوٰۃ کے حساب کا رہنما

زکوٰۃ کیلکولیٹر آپ کو مال، سونے، چاندی، بچت، حصص، سرمایہ کاری اور مالِ تجارت پر واجب زکوٰۃ معروف شرح 2.5% کے مطابق حساب کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اپنے زکوٰۃ والے مال کی قیمت درج کریں تاکہ نصاب اور حول کو مدنظر رکھتے ہوئے مقدارِ زکوٰۃ کا تخمینہ معلوم ہو۔ یہ کیلکولیٹر آسانی اور زکوٰۃ کے حساب کے واضح طریقے کو یکجا کرتا ہے، اور پیچیدہ ہاتھ کے حساب کے بغیر چند مرحلوں میں مقدارِ زکوٰۃ دکھا دیتا ہے۔

زکوٰۃ کیا ہے اور کیسے حساب ہوتی ہے؟

زکوٰۃ اسلام کے ارکان میں سے ایک ہے؛ یہ مال میں ایک معلوم حق ہے جو مسلمان اس وقت ادا کرتا ہے جب اس کا مال نصاب کو پہنچے اور اس پر مکمل حول گزر جائے۔ مال کی زکوٰۃ میں نقد اور بچت، سونے کی زکوٰۃ، چاندی کی زکوٰۃ، نقد کی زکوٰۃ، حصص اور مالِ تجارت شامل ہیں۔ ان اموال میں زکوٰۃ کی شرح نصاب کو پہنچنے کے بعد صافی زکوٰۃ والے مال کا 2.5% ہے۔ زکوٰۃ کیلکولیٹر مقدارِ زکوٰۃ کو قابلِ اعتماد تخمینے کے ساتھ جاننا آسان بنا دیتا ہے: یہ آپ کی درج کردہ قیمت پر 2.5% لاگو کرتا ہے اور واجب زکوٰۃ تیزی اور وضاحت سے دکھاتا ہے۔ باقاعدگی سے زکوٰۃ کا حساب اس فریضے کو وقت پر ادا کرنے اور مال کی پاکیزگی و برکت میں مدد دیتا ہے۔

زکوٰۃ کیلکولیٹر مرحلہ وار کیسے استعمال کریں

  1. مال کی قیمت درج کریںزکوٰۃ والے نقد، بچت، سونے، چاندی اور سرمایہ کاری کی قیمت لکھیں۔
  2. مال کی قسم چنیںہر اثاثے کی قسم (نقد، سونا یا چاندی) منتخب کریں تاکہ زکوٰۃ درست حساب ہو۔
  3. نصاب کی تصدیق کریںیقینی بنائیں کہ مال زکوٰۃ کے نصاب کو پہنچا اور اس پر مکمل حول گزرا۔
  4. مقدارِ زکوٰۃ پڑھیںکیلکولیٹر صافی زکوٰۃ والے مال کا 2.5% مقدارِ زکوٰۃ دکھاتا ہے۔

زکوٰۃ کے حساب کی مثالیں

2.5% پر زکوٰۃ حساب کرنے کی وضاحتی مثالیں؛ اعداد تخمینی ہیں۔

مال کی زکوٰۃ کی مثال

اگر زکوٰۃ والا مال 100,000 ہو تو 2.5% کے حساب سے مال کی زکوٰۃ 2,500 ہے۔

سونے کی زکوٰۃ کی مثال

اگر زکوٰۃ والے سونے کی قیمت 40,000 ہو اور نصاب کو پہنچے تو سونے کی زکوٰۃ 1,000 ہے۔

بچت کی زکوٰۃ کی مثال

اگر بچت 200,000 ہو اور حول گزر جائے تو مقدارِ زکوٰۃ 5,000 ہے۔

چاندی کی زکوٰۃ کی مثال

اگر زکوٰۃ والی چاندی کی قیمت 20,000 ہو، نصاب کو پہنچے اور حول گزر جائے تو 2.5% کے حساب سے چاندی کی زکوٰۃ 500 ہے۔

مالِ تجارت کی زکوٰۃ کی مثال

اگر فروخت کے لیے رکھا گیا مالِ تجارت حول کے اختتام پر 300,000 ہو تو 2.5% کے حساب سے مقدارِ زکوٰۃ 7,500 ہے۔

زکوٰۃ ادا کرنے سے پہلے اہم نکات

  • زکوٰۃ حساب اور ادا کرنے سے پہلے مال کے نصاب کو پہنچنے کی تصدیق کریں۔
  • ضرورت کے وقت مال پر مکمل حول گزرنے کی تصدیق کریں۔
  • خاص یا پیچیدہ مالی حالات میں معتبر شرعی جہت سے رجوع کریں۔
  • زکوٰۃ کیلکولیٹر تخمینے میں مدد دیتا ہے اور شرعی سوال کا بدل نہیں۔
  • سونے اور چاندی کی قیمت خریداری کے دن نہیں بلکہ زکوٰۃ ادا کرنے کے دن کے بھاؤ سے لگائیں۔
  • زکوٰۃ میں تاخیر سے بچنے کے لیے ہجری سال میں ایک مقرر دن منتخب کر کے اسی دن زکوٰۃ حساب اور ادا کریں۔

زکوٰۃ کے کثرت سے پوچھے جانے والے سوالات

مال کی زکوٰۃ کیسے حساب کی جائے؟

اگر دولت نصاب کو پہنچ جائے اور اس پر مکمل قمری سال (حول) گزر جائے، تو زکوٰۃ خالص زکوٰۃ والی دولت کا 2.5% حساب کی جاتی ہے۔

مال کی زکوٰۃ کی شرح کیا ہے؟

مال کی زکوٰۃ کی شرح عام طور پر 2.5% ہے۔

کیا تنخواہ پر زکوٰۃ واجب ہے؟

تنخواہ خود ملنے پر اس پر زکوٰۃ واجب نہیں، مگر اس میں سے جو رقم بچائی جائے اور نصاب کو پہنچ کر اس پر قمری سال گزر جائے، وہ زکوٰۃ کے حساب میں شامل ہو گی۔

کیا سونے پر زکوٰۃ ہے؟

سونا نصاب کو پہنچتے ہی زکوٰۃ کا تابع ہو جاتا ہے۔ ذاتی زیورات کے سونے میں فقہی اختلاف ہے، لہٰذا اپنی مستند فتویٰ کی پیروی کریں۔

کیا حصص پر زکوٰۃ واجب ہے؟

جی ہاں، نیت کے مطابق (طویل مدتی سرمایہ کاری، چھوٹی مدت یا تجارت) حصص پر زکوٰۃ واجب ہو سکتی ہے۔ آپ انہیں کیلکولیٹر کے سرمایہ کاری حصے میں شامل کر سکتے ہیں۔

کیا قرضوں کو زکوٰۃ سے گھٹایا جائے؟

کچھ واجب الادا قرض گھٹائے جا سکتے ہیں، مگر تفصیل قرض کی نوعیت اور وقت پر منحصر ہے — یہ کیلکولیٹر صرف عمومی تخمینہ پیش کرتا ہے۔

کیا یہ کیلکولیٹر مفتی سے مشورے کا نعم البدل ہے؟

نہیں، کیلکولیٹر صرف تخمینے میں مدد دیتا ہے، یہ خاص یا پیچیدہ معاملات میں کسی عالم سے مشورہ لینے کا متبادل نہیں۔

زکوٰۃ کب ادا کی جاتی ہے؟

مال کی زکوٰۃ اس وقت ادا کی جاتی ہے جب وہ نصاب کو پہنچے اور اس پر مکمل حول گزر جائے؛ بہت سے لوگ سال میں ایک مقرر تاریخ منتخب کرتے ہیں۔

کیا سونے کی زکوٰۃ نقد کی زکوٰۃ سے مختلف ہے؟

شرح ایک ہی ہے 2.5%؛ لیکن سونے کا نصاب اس کے وزن (گرام) سے ناپا جاتا ہے، جبکہ نقد کا نصاب سونے یا چاندی کے نصاب کے مقابلے میں اس کی قیمت سے۔

اہم نوٹ

یہ کیلکولیٹر آپ کے ان پٹ کی بنیاد پر زکوٰۃ کا عمومی تخمینہ پیش کرتا ہے۔ کچھ تفصیلات دولت کی قسم، قرضوں، سونے، حصص، یا آپ کے ملک کی فتویٰ کے مطابق مختلف ہو سکتی ہیں۔ خاص حالات میں کسی معتمد عالم سے رجوع کریں۔